منقبت سید علی میرا داتار
مدینہ سے دلکش ہوا آ رہی ہے
درِ میرا داتار کو مہکائی ہے
ہے داتار میں بھی مدینے کا جلوہ
وہیں سے یہاں روشنی آ رہی ہے
کشش ہے عجب تیرے روضے کی داتار
جبین عقیدت ہے جھکی جا رہی ہے
شب و روز ہوتی ہے قرآن خوانی
کہیں نعت سرور پڑھی جا رہی ہے
ادھر راستی اماں ہے ادھر ماموں حمزہ
بہارِ ستم خلقت کھینچی جا رہی ہے
تیرے روضے پاک کا تاج زریں
نسیمِ جناں جس میں لہرا رہی ہے
غریبوں کی صف میں ہے شانِ عالم
یہاں سب کی جھولی بھری جا رہی ہے
تصدق میں حسنین کے میرے داتار
کرم ہو کہ نازک گھڑی آ رہی ہے
جو ہاتھوں میں ہیں میرے داتا کا دامن
بلا سب اسی سے ٹلی جا رہی ہے
وہ رونقیں داتار میں اللہ اللہ
نگاہوں میں جنت بسی جا رہی ہے
ہندو مسلمان ہے خوش نعت داتار سے
روکھے دیو پر مرونی چھا رہی ہے
ہیں داتار کے سب اور سب کے ہیں داتار
کہ مخلوق دوڑ ی چلی آ رہی ہے
شب و روز بارانِ رحمت کا منظر
صدا رحمتوں کی گھٹا چھا رہی ہے
شہنشاہِ گجرات پھر بلا لو
جدائی تو سجا کو تڑپا رہی ہے
شاعر: سجاد
MORE URDU NAAT LYRICS
ج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا
اے عشقِ نبی میرے دل میں بھی سما جانا
یاد میں جس کی نہیں ہوش تن و جاں ہم کو
بے خود کیے دیتے ہیں انداز حجابانہ
رُخ دن ہے یا مہرِ سَما یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں