منقبت سید میرا علی داتار


جب کبھی عشق و محبت پیار کی باتیں کرو
سیدی میرا علی داتار کی باتیں کرو

فاتح گجرات کو مت بھولنا اے سنیوں
جب کسی قائد کسی سالار کی باتیں کرو

جو نبی کی آل ہے مشکل کشا کا لال ہے
فاطمہ زہرا کے اس دلدار کی باتیں کرو

اپنے گھر اپنے محلے اور اپنے شہر میں
شیخ کامل واقف اسرار کی باتیں کرو

خوف کھاتے ہیں سحر آسیب جس کے نام سے
اس عظیم المرتبت سردار کی باتیں کرو

دور ہو جاتی ہے بیماری جہاں بیمار سے
اس شفا خانے کی اس دربار کی باتیں کرو

پھر کبھی کرنا مہ و انجم پے یاروں تبصرہ
آج میرے مونس و غمخوار کی باتیں کرو

جس کے در سے خالی دامن لوٹا کوئی نہیں
اس سخی کی اور اس سرکار کی باتیں کرو

گر تقاضا عشق کا کرنا ہو پورا اے وصی
اختر و عسجد رضا گلزار کی باتیں کرو

شاعر:سید عبدالوصی قادری

منقبت سید میرا علی داتار


منقبت سید میرا علی داتار

Jab kabhi ishq aur muhabbat pyaar ki baatein karo Lyrics || जब कभी इश्क़ और मोहब्बत प्यार की बातें करोمنقبت سید میرا علی داتار


اے عشقِ نبی میرے دل میں بھی سما جانا

پُل سے اُتارو راہ گزر کو خبر نہ ہو

یاد میں جس کی نہیں ہوش تن و جاں ہم کو

رُخ دن ہے یا مہرِ سَما یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

غم ہو گئے بے شمار آقا

عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے

حق پسند و حق نوا و حق نما ملتا نہیں

بُلا لو پھر مجھے، اے شاہِ بحر و بر! مدینے میں

لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا