رُخ سے پردہ اب اپنے ہٹا دو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
فاصلوں کو خدارا مٹا دو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
غوثِ اعظم ہو، غوثُ الورٰی ہو
دستگیر اور مشکل کُشا ہو
کیا بیاں آپ کا مرتبہ ہو
نور ہو نورِ صلِّ علیٰ ہو
آج دیدار اپنا کرا دو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
وجد میں آئے گا سارا عالم
جب پکاریں گے یا غوثِ اعظم
وہ نکل آئیں گے جالیوں سے
اور قدموں میں گر جائیں گے ہم
پھر کہیں گے کہ بگڑی بنا دو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
ایک مجرم سیاہ کار ہوں میں
ہر خطا کا سزاوار ہوں میں
میرے چاروں طرف ہے اندھیرا
روشنی کا طلب گار ہوں میں
ایک دیا ہی سمجھ کر جلا دو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
more urdu lyrics
پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سُناتے جائیں گے
اللہ اللہ کے نبی سے فریاد ہے نفس کی بدی سے